بنگلورو،14؍ستمبر(ایس او نیوز) بنگلورو میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے اسی سال جون کے مہینہ میں خواتین کے تحفظ کے پیش نظر اور ان پر کی جانے والے کسی طرح کے ظلم یا ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرانے اور فوری اس کے ازالہ کے لئے 25 خصوصی سواریاں جاری کی تھی جنہیں ”گلابی سارتھی“ کا نام دیا گیا، مگر خواتین صارفین اب بھی ان خدمات سے واقف نہیں ہیں اور اسی عرصہ میں اب تک بی ایم ٹی سی کو خواتین سے متعلق مسائل کی صرف 18 شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔شہر کی کئی خواتین صارفین ان خصوصی گاڑیوں کی شناخت بھی کر پائی ہیں، اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے اور کس طرح ان تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔عمومی کال سنٹر کے مفت فون نمبر (18004251663) کے علاوہ ان گاڑیوں کے متعلق شکایات درج کرانے کے لئے ایک خصوصی واٹس ایپ نمبر (7760991212) بھی جاری کیا گیا ہے، البتہ جن خواتین سے نامہ نگاروں نے ملاقات کی اور اس تعلق سے سوال کیا ان میں سے اکثر ان خدمات سے نا واقف تھیں اور وہ پہلی بار اس تعلق سے سن رہی تھیں۔ جب بی ایم ٹی سی کی گلابی سارتھی گاڑی کی تصویر دکھائی گئی توان میں اکثر نے اس کو گلابی ہوئسلہ (خواتین کے لئے مخصوص پولیس کی گاڑی) سمجھ رہی تھیں۔شہر کے ایک مشہور کالج میں بی ایس سی کی طالبہ اشونی کماری نے کہا کہ ”میں اس خدمت سے واقف نہیں ہوں، حکام کو چاہئے کہ وہ ان خدمات اور شکایت کے نمبرات کی بڑے پیمانہ پر تشہیر کریں۔مجھے ایسے کئی معاملات سے گزرنا پڑا ہے جب کنڈکٹر نے میرے باقی پیسے واپس نہیں لوٹائے یا پھر ڈرائیور نے گاڑی متعینہ مقام پر نہیں روکی۔ ہجوم کے موقع پر مرد، اس کا فائدہ اٹھا کر غلط انداز میں ہمیں چھونے کی کوشش بھی کر تے ہیں، بسوں میں کیمرے لگانے کے ساتھ ہی انہیں چاہئے کہ ان کے فوٹیج کا وقفہ وقفہ سے جائزہ بھی لیتے رہیں، ورنہ کیمرے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا“۔شاردا جو اپنی کام کی جگہ پہنچنے کے لئے بی ایم ٹی سی کا استعمال کرتی ہیں نے کہا کہ ”مجھے سارتھی گاڑیوں کا کوئی علم نہیں تھا، حکام کو چاہئے کہ وہ مجسٹک جیسے بڑے بس اڈوں پر ڈسپلے بورڈ کے ذریعہ اس کے واٹس ایپ نمبر کی تشہیر کریں اور بی ایم ٹی سی صارفین کے درمیان دستی پرچے تقسیم کرنے کے ذریعہ بھی اس سلسلہ میں عوام کے درمیان معلومات کو عام کیا جانا چاہئے“۔ دوسری بے شمار خواتین بھی جو روزانہ بی ایم ٹی سی بس کا استعمال کرتی ہیں، اسی طرح کا جواب دے رہی تھیں، جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ گلابی سارتھی نامی خصوصی بس خدمات سے واقف ہیں اور کسی طرح پریشانی کے موقع پر کس طرح سے شکایات درج کرائی جا سکتی ہیں؟ واضح رہے کہ سارتھی گاڑیاں نہ صرف بی ایم ٹی سی کی بس ڈپوؤں میں بلکہ سڑک پر بھی بی ایم ٹی سی بسوں کی مختلف رخوں پر گھومتی ہوئی مل جاتی ہیں۔ان تک براہ راست بھی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے یا پھر جہاں وہ نظر نہیں آرہی ہیں وہاں فون کال، واٹس ایپ، ٹوئیٹر، ای میل، موبائل ایپ اور ای جنااسپندنا وغیرہ کے ذریعہ بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔کیمپے گوڈا بس اڈہ مجسٹک اور ایشونتپور کے بس اڈہ پر کچھ نامہ نگاروں نے سارتھی کے دو افسران سے ملاقات کی اور جب ان سے بات کی گئی تو انہوں نے شکایت کی کہ انہیں اب تک خواتین مسافروں کی ہراسانی کے سلسلہ میں کوئی بڑی شکایت نہیں ملی ہے۔ایک سارتھی گاڑی میں ٹریفک کنٹرولر مہا دیویا نے بتایا کہ ”ہم بنشنکری سے گورا رنٹے پالیہ کے درمیان گشت کرتے ہیں اور اس دوران کئی چھوٹے بس اڈوں میں سے گزرتے ہیں اور کہیں کہیں کچھ دیر کے لئے رک بھی جاتے ہیں، ہمیں کہیں سے بھی کوئی جنسی ہراسانی کی شکایت اب تک نہیں ملی ہے“۔بی ایم ٹی سی کے افسرسے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ”شہر کے مختلف بس اڈوں پر گلابی سارتھی کے ہم کال سنٹر نمبر اور واٹس ایپ نمبر کی تشہیر کریں گے، البتہ کال سنٹر کا نمبر بی ایم ٹی سی کی ہر ایک بس میں لگایا گیا ہے“۔